img not found
مغل بادشاہ شاہجہاں کی بیٹی جو دنیا کی ’امیر ترین‘ شہزادی بنی

مغل شہزادی جہاں آرا اور ان کے اہل خانہ کی زندگی میں برسوں کی دربدری کے بعد یہ دن آئے کہ ان کے والد بادشاہ بنے۔ شہزادہ خرم کی تاج پوشی کا دن ہے اور محل میں تیاریوں کی دھوم ہے۔

جہاں آرا اس دن کا احوال اپنی ڈائری میں لکھتی ہیں ہم سب نے نئے کپڑے پہنے۔ میں نے ریشمی انگرکھا زیب تن کیا اور گہرے نیلے رنگ کا چست پاجامہ جس پر نقرئی زردوزی کے کام ہیں۔ چاندی کے کام والا جالی دار دوپٹہ لیا ہے۔ روشن آرا نے اسی ڈیزائن کا لباس پہنا فرق صرف اتنا ہے کہ اس کے لباس کا رنگ شوخ زرد اور سنہرا ہے۔ ستی النسا بیگم ارغوانی لباس اور سنہرے پشواز میں شاندار لگ رہی ہیں۔

دارا، شجاع، اورنگزیب اور مراد نے سرخ پاجامے کے ساتھ سہنرے استر والے جیکٹ پہن رکھے ہیں اور ان کے مختلف رنگوں کے کمر بند ہیں۔

ستی النساء نے زیوارت کے صندوق کھولے اور ہمیں اور روشن آر کو گلے کے ہار، چوڑیاں، کان کے جھمکے اور پازیبیں دیں۔ لڑکوں کو موتیوں کے ہار، بازوبند، جوشن اور انگوٹھیاں دی گئیں۔

والدہ تو گھنٹوں سے تیار ہو رہی تھیں اور جب ہم نے انھیں دیکھا تو دیکھتے رہ گئے کیونکہ وہ کبھی اس سے زیادہ شاہانہ اور خوبصورت نہیں نظر آئی تھیں۔
مغل سلطنت کے تمام بڑے عمائدین دیوان عام میں جلوہ افروز ہیں۔ خواتین کے لیے پردے لگا دیے گئے ہیں۔ ہم چلمن کے پاس بیٹھ گئے تاکہ دربار کو دیکھ سکیں۔ جنھیں میں پہچان سکتی تھی انھیں پہچاننے کی کوشش کی۔ نانا آصف خان سنہرے پیشواز اور کندھے پر سرخ شال ڈالے نظر آ رہے تھے۔ عبدالرحیم خان خاناں میواڑ کے نوجوان شاہزادے ارجن سنگھ سے محو گفتگو تھے۔ مہابت خان اپنی سفید موچھوں میں نمایاں نظر آ رہے تھے۔‘

پھر میں نے ڈھول کی آواز سنی تو سمجھ گئی کہ اب والد صاحب آنے والے ہیں۔ ان کا ذکر اتنے القاب و اداب سے کیا گيا کہ روشن آرا بول پڑی مجھے نہیں معلوم تھا کہ ابو کے اتنے زیادہ القاب ہیں۔ میں نے سرگوشی میں کہا، کیا تمہیں ایسا لگتا ہے کہ انھیں یہ یاد بھی رہیں گے۔

جہاں آرا مزید بتاتی ہیں کہ والد صاحب نے مغل سلطنت کے بہترین زرو جواہر سے مزین زیورات پہن رکھے تھے۔ ان کے پیشواز سنہرے ریشمی تھے جس پر موتیوں اور چاندی کے دھاگوں سے کام کیا گيا تھا۔ ہیرے والے سرپیچ تھے یعنی پگڑی پر دو پنکھوں والا زیور، گلے میں موتیوں کی چھ لڑیوں والا ہار، اور موتی کبوترکے انڈوں کے برابر تھے۔ بازو پر انھوں نے بازو بند اور جوشن پہن رکھے تھے اور انگلیوں میں انگوٹھیاں تھیں۔

وہ لکھتی ہیں کہ تاج پوشی کی رسم بہت سادہ تھی۔ شاہی امام نے خطبہ پڑھا اور انھیں دعائيں دیں۔ پھر یکے بعد دیگرے حسب مرتبہ امرا آتے رہے انھیں مبارکباد کے ساتھ تحفے تحائف دیتے رہے۔

وہاں سونے کی مہریں، زیوارت کے صندوق، نادر و نایاب ہیرے، موتی، چین کے قیمتی ریشمی کپڑوں کے تھان، یورپ کی خوشبوئیں اور مختلف قسم کے زیوارت رکھے تھے کیونکہ امیر امرا کو معلوم تھا کہ والد صاحب کو جواہرات پسند ہیں۔
والد صاحب نے بادشاہ کی حیثیت سے پہلا اعلان کیا۔ انھوں نے حاضرین کو بتایا کہ والدہ کا خطاب آج سے ممتاز محل ہوگا اور انھیں دس لاکھ روپے سالانہ کا وظیفہ دیا جائے گا۔ بیگم نور جہاں کو دو لاکھ روپے سالانہ وظیفہ دیا جائے، نانا آصف خان اب والد کے وزیر اعظم بن چکے تھے۔ انھیں شاہی لباس دیا گيا۔ مہابت خان کو اجمیر کی جاگیر دی گئی۔ ارجن سنگھ کو سونے کی مہریں، جواہرات اور گھوڑے دیے گئے۔

جس چیز کا جہاں آرا نے ذکر نہیں کیا ہے وہ ان کا اپنا وظیفہ ہے۔ شاید یہ اعلان اس روز نہ ہوا ہو کیونکہ تاج پوشی کے ساتھ ہی ایک ماہ کے جشن کا اعلان بھی کیا گیا تھا لیکن ان کے والد اور بادشاہ شاہجہاں نے ان کے لیے چھ لاکھ روپے سالانہ کا وظیفہ مقرر کیا تھا اور اس طرح وہ مغل دور کی امیر ترین شہزادی ہو گئی تھیں جبکہ ان کی عمر صرف 14 سال تھی۔

خیال رہے کہ مغل دور حکومت میں خواتین کے بہت کم نام سامنے آئے ہیں جن میں گلبدن بیگم، نور جہاں، ممتاز محل، جہاں آرا، روشن آرا اور زیب النسا کا نام لیا جا سکتا ہے۔

ان میں بھی دو یعنی نورجہاں اور ممتاز محل تو ملکہ رہیں اور باقیوں کی حیثیت جہاں آرا کے برابر نہیں پہنچتی ہے کیونکہ سوائے روشن آرا کے کوئی حرم کی سربراہ یعنی بیگم صاحبہ یا بادشاہ بیگم نہیں بن سکیں۔
جہاں آرا کی والدہ کا جب انتقال ہوا تو اس وقت وہ محض 17 سال کی تھیں اور اسی وقت سے ان کے کندھوں پر مغل سلطنت کے حرم کا بار آ گيا۔

بادشاہ شاہجہاں اپنی اہلیہ کے غم میں اتنے غمزدہ ہوئے کہ انھوں نے ایک طرح سے گوشہ نشینی کی زندگی گزارنی شروع کر دی۔

محبوب الرحمان کلیم اپنی کتاب جہاں آرا میں لکھتے ہیں کہ ممتاز محل کی موت کے بعد بادشاہ نے سیاہ ماتمی لباس پہن لیا تھا لیکن بعض دوسرے مورخ بتاتے ہیں کہ انھوں نے انتہائی سادگی اختیار کر لی تھی اور سفید لباس میں ہی نظر آتے تھے جبکہ اہلیہ کی موت کے بعد ان کے داڑھی کے بال بھی سفید ہو گئے تھے۔

شاہجہاں نے ایسے عالم میں اپنی کسی دوسری ملکہ کو محل کے امور کی ذمہ داری دینے کے بجائے اپنی جواں سال بیٹی جہاں آرا کو بادشاہ بیگم بنایا اور ان کے سالانہ وظیفے میں مزید چار لاکھ کا اضافہ کر دیا جس سے ان کا سالانہ وظیفہ دس لاکھ ہو گيا۔

دہلی کی جامعہ ملیہ میں شعبہ تاریخ و ثقافت میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رحما جاوید راشد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغل دور کی دو اہم خواتین نور جہاں اور جہاں آرا بیگم تھیں۔

وہ ملکۂ ہندوستان تو نہیں تھیں لیکن اپنی والدہ ممتاز بیگم کی موت کے بعد سے وہ ساری زندگی مغل سلطنت کی سب سے بااختیار اور طاقت ور خاتون رہیں۔ انھیں والدہ کے انتقال کے بعد بادشاہ بیگم کا خطاب دیا گیا اور حرم کی ساری ذمہ داری 17 سال کے اس جوان کندھوں پر آ گئی۔
انھوں نے بتایا کہ ’جہاں آرا اپنے زمانے کی ہندوستان ہی کی نہیں بلکہ ساری دنیا کی امیر ترین خاتون تھیں اور کیوں نہ ہوں کہ ان کے والد ہندوستان کے امیر ترین بادشاہ تھے جن کے عہد کو ہندوستان کا عہد زریں کہا گیا ہے‘۔

معروف مورخ اور ڈاٹرز آف دی سن‘ کی مصنفہ ایرا مکھوتی بتاتی ہیں جب مغربی سیاح ہندوستان آتے تو انھیں یہ دیکھ کر تعجب ہوتا کہ مغل بیگمات کس قدر بااثر تھیں۔ اس کے برعکس اس زمانے میں برطانوی خواتین کو اس قسم کے حقوق حاصل نہیں تھے۔ وہ اس بات پر حیران تھے کہ بیگمات کاروبار کر رہی ہیں اور وہ انھیں ہدایت دے رہی ہیں کہ کس چیز کا کاروبار کرناہے اور کس چیز کا نہیں۔

جہاں آرا کی دولت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس بہت سی جاگیریں تھیں، جس دن ان کے والد کی تاج پوشی ہوئی اس دن انھیں ایک لاکھ اشرفیاں اور چار لاکھ روپے دیے گئے جبکہ چھ لاکھ سالانہ وظیفے کا اعلان کیا گيا۔

اور ان کی والدہ کی موت کے بعد ان کی ساری جائیداد کا نصف جہاں آرا کو دے دیا گیا باقی نصف دیگر بچوں میں تقسیم کیا گیا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تاریخ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ایم وسیم راجہ ان کی دولت کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں جب انھیں پادشاہ بیگم بنایا گیا تو اس دن انھیں ایک لاکھ اشرفیاں، چار لاکھ روپے اور مزید چار لاکھ روپے سالانہ کی گرانٹ دی گئی۔ انھیں جو باغ دیے گئے ان میں باغ جہاں آرا، باغ نور اور باغ صفا اہم ہیں۔ ان کی جاگیر میں

اچھل، فرجاہرا اور بچھول، صفاپور، دوہارا کی سرکاریں اور پانی پت کا پرگنہ دیا گیا تھا۔ انھیں سورت کا شہر بھی دیا گیا تھا جہاں ان کے جہاز چلتے تھے اور انگریزوں کے ساتھ ان کی تجارت ہوتی تھی۔
پنجاب ہسٹاریکل سوسائٹی کے سامنے 12 اپریل سنہ 1913 کو پڑھے جانے والے اپنے مقالے میں نظام حیدرآباد کی سلطنت میں آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جی یزدانی نے لکھا ہے کہ اسی سال نوروز کے موقعے پر جہاں آرا کو 20 لاکھ کے زور جواہر تحفے میں دیے گئے۔

انھوں نے مزید لکھا کہ جہاں آرا ایوان کی تقریب کی بھی ذمہ دار ہوتی تھیں، جیسے کہ بادشاہ کا یوم پیدائش اور نوروز وغیرہ کے مواقع پر وہی نگران اعلیٰ ہوتیں۔ موسم بہار میں عید گلابی کی تقریب ہوتی تھی۔ اس موقعے پر شہزادے اور منصب دار منقش زروجواہر والی صراحی میں بادشاہ کو عرق گلاب پیش کرتے تھے۔ اعتدال شب و روز (یعنی جب دن رات برابر ہوں) کا جشن جمعے کو ہوتا تھا۔ اس موقعے پر جہاں آرا نے 19 مارچ سنہ 1637 کو بادشاہ کو ڈھائی لاکھ کا ہشت زاویہ تخت دیا تھا۔

ان سب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس کتنی دولت رہی ہو گی۔

جہاں آرا کی زندگی میں ایک بہت بڑا سانحہ اس وقت رونما ہوا جب وہ جل گئیں اور تقریبا آٹھ ماہ تک صاحب فراش رہنے کے بعد حب صحت یاب ہوئيں تو بادشاہ نے خوشی میں سلطنت کے خزانے کے منھ کھول دیے۔

چھ اپریل سنہ 1644 کو جب وہ آگ کی زد میں آئی تھیں تو ان کی صحت یابی کے لیے عام منادی کرائی گئی تھی۔ غربا میں روزانہ پیسے روپے تقیسم کیے جاتے، بڑی تعداد میں قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔
محقق ضیاالدین احمد اپنی کتاب جہاں آرا میں محمد صالح کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بادشاہ نے تین دنوں میں 15 ہزار اشرفیاں اور تقریبا اتنے ہی روپے غربا میں تقسیم کر دیے۔ روزانہ ایک ہزار روپیہ اس طرح خیرات کیا جاتا کہ رات کو جہاں آرا کے تکیے کے نیچے ہزار روپے رکھ دیا جاتا اور صبح کو غربا میں تقسیم کر دیا جاتا۔ بڑے افسر جو خیانت کے جرم میں قید تھے رہا کر دیے گئے اور ان کے قرضے معاف کردیے گئے جن کی میزان سات لاکھ تھی بے باق کر دیے گئے۔

جبکہ جی یزدانی لکھتے ہیں کہ جہاں آرا کی صحت یابی پر آٹھ دنوں کا جشن منايا گیا تھا، انھیں سونے میں تولا گیا اور وہ سونے غربا میں تقسیم کیے گئے۔ پہلے دن شاہ جہاں نے شہزادی کو 130 موتی اور پانچ لاکھ کے گنگن تحفے میں دیے۔ دوسرے دن سرپیچ (سر پوش) دیا گیا جس میں ہیرے موتی جڑے تھے۔ صورت کی بندرگاہ بھی اسی موقعے سے عطا کی گئی جس کی سالانہ آمدن پانچ لاکھ روپے تھی۔

جی یزدانی نے لکھا ہے کہ نہ صرف جہاں آرا کو بلکہ ان کا علاج کرنے والے حکیم کو بھی مال و دولت سے بھر دیا گیا۔

ان کے مطابق حکیم محمد داؤد کو دو ہزار پیدل اور دوسو گھوڑے کی سرداری ملی، خلعت اور ہاتھی کے علاوہ سونے کے زین والا گھوڑا، 500 تولے کی سونے کی مہریں اور اسی وزن کا اس موقعے پر خصوصی طور پر ڈھالا جانے والا سکہ بھی دیا گیا۔ ایک غلام عارف کو اس کے وزن کے برابر سونے اور خلعت، گھوڑے و ہاتھی اور سات ہزار روپے دیے گئے۔

ان کی دولت کا ذکر کرتے ہوئے محبوب الرحمان کلیم لکھتے ہیں کہ شاہجہاں نے اپنی پیاری بیٹی کو بہت بڑی جاگير عطا کی تھی۔ اس کے علاوہ جہاں آرا کو جو انعام ادنی ادنی تقریبوں میں حاصل ہوتے تھے ان کی کوئی حد نہیں۔ جہاں آرا بیگم کی جاگیر میں انھیں جو خطے عنایت کیے گئے تھے وہ بہت زیادہ زرخیز تھے۔ ملک سورت جو نہایت شاداب صوبہ تھا شاہجہاں نے بطور جاگیر عطا کیا تھا۔ اس وقت اس کی سالانہ آمدن ساڑھے سات لاکھ تھی۔ اسی کے ساتھ انھیں سورت بندرگاہ بھی دے دی گئی تھی جس میں ہمیشہ مختلف ممالک کے تاجروں کی آمدورفت رہا کرتی تھی۔ اور اس سبب سے ان کے محاصل میں پانچ لاکھ سے کچھ زیادہ روپے آتے تھے۔ اس کے علاوہ اعظم گڑھ، انبالہ، وغیرہ زرخیز مقامات بھی ان کی جاگیر میں شامل تھیں۔

لیکن جہاں آرا خود کو فقیرہ کہتی تھیں۔ ان کی زندگی میں سادگی تھی اور پردے کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ چنانچہ بہت سے مورخ کے حوالے سے ڈاکٹر رحما بتاتی ہیں کہ جس دن وہ جلی تھیں وہ نوروز کے جشن کی رات تھی (بعض نے اسے ان کی سالگرہ کا دن کہا ہے) اور جب آگ لگی تو انھوں نے چیخ و پکار نہیں کی کہ مبادا کوئی مرد ان کو بچانے کے لیے نہ دوڑا آئے اور وہ بھاگی ہوئی زنان خانے میں آئیں اور بے ہوش ہو گئیں۔

ان کی آگ کو بجھانے میں دو خادمائيں بھی زخمی ہوگئی جن میں سے ایک کی تو موت ہو گئی اور جہاں آرا کے بیمار پڑنے سے محل کی دنیا تاریک ہوگئی۔
محل کی دنیا، خواتین کی دنیا

جہاں آرا کی ڈائری سے پتہ چلتا ہے کہ ان سے بڑی ایک سوتیلی بہن تھیں لیکن باقی ساری اولادیں شاہ جہاں کو ارجمند آرا یعنی ممتاز محل کے بطن سے ہوئیں۔

محل کا ذکر کرتے ہوئے جہاں آرا لکھتی ہیں محل کے اندر خواتین کی دنیا ہے۔ شہزادیاں، رانیاں، داشتہ، مدخولہ، خادمائیں، باورچن، دھوبن، گلوکارہ، رقاصہ، مصورہ اور ان کے گرد غلاموں کا غول جو کہ ان پر نظر رکھتے ہیں اور بادشاہ کو وہاں کے حالات سے مستقل آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

بعض خواتین شاہی خاندان سے شادی کر کے آئيں ہیں۔ بعض کو ان کی خوبصورتی کے سبب شہزادوں کی پسند پر حرم میں لایا گیا ہے، بہت سی حرم کی چار دیواریوں میں پیدا ہوئی ہیں۔ بعض خواتین کا کہنا ہے کہ ایک بار آپ حرم میں آئے تو پھر کوئی آپ کا چہرہ نہیں دیکھ پاتا ہے۔ آپ کسی مرصع جن کی طرح غائب ہو جاتے ہیں اور کچھ عرصے بعد آپ کے گھر والے بھی آپ کی صورت بھول جاتے ہیں۔

لیکن جہاں آرا کی صورت اور سیرت کو مغل تاریخ میں بھلایا نہیں جا سکا اور ان کے حسن کا ذکر بہت جگہ ملتا ہے۔ جہاں آرا خود ہی بتاتی ہیں کہ کس طرح ایک دن وہ سستی و کاہلی کا شکار تھیں کہ والدہ نے انھیں ڈانٹ کر کہا کہ کچھ کرو کیا دھوبن کی طرح گندی پڑی ہوئی ہو۔ اس پر ان کے والد شاہجہاں نے کہا تھا کہ اگر یہ دھوبن ہوگی تو دنیا کی سب سے حسین دھوبن ہوگی۔

جہاں آرا ایک جگہ نور جہاں اور والدہ کے حسن کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ نورجہاں اپنے قد اور چہرے کی لمبائی کی وجہ سے والدہ سے زیادہ وجیہ اور حسین نظر آتی تھیں۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ ان کی والدہ بھی انتہائی حسین تھیں اور پھول کی طرح شگفتہ تھیں جسے ہر کوئی چاہے۔
شاہجہان اپنے بیٹے کے ساتھ

محبوب الرحمان کلیم بیگم صاحبہ کے حسن و جمال کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جہاں آرا بیگم خاندان مغلیہ میں بلحاظ سیرت اور صورت ایک بینظیر بیگم گزری ہے۔ دولت کمال کی طرح ملک حسن و جمال بھی ان کے زیر نگیں تھا۔ وہ نہایت درجہ حسین اور پری پیکر تھیں۔

بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ روشن آرا بیگم اس زمانے میں حسن و جمال میں مشہور تھیں لیکن ڈاکٹر برنیر نے لکھا ہے کہ گوکہ روشن آرا بیگم اس کی چھوٹی بہن نہایت درجہ خوبصورت ہے لیکن جہاں آرا بیگم کا حسن و جمال اس سے کہیں زیادہ ہے۔

جہاں آرا کا وہ مقام تھا کہ ان کا اپنا علیحدہ ایک محل تھا جہاں وہ رہتی تھیں۔

مترجم اور تاریخ نویس مولوی ذکاء اللہ دہلوی نے شاہجہاں نامہ میں لکھا ہے کہ جہاں آرا بیگم کی جلوہ گاہ

شاہ جہاں کے محل سے متصل تعمیر کی گئی تھی۔ بیگم صاحبہ کا دلکش اور عالیشان مکان آرام گاہ سے ملا ہوا تھا اور نہایت دلفریب نقش و نگار سے مزین تھا۔ اس کے درو دیوار پر اعلی درجے کی پچکاری کی ہوئی تھی۔ اور جا بجا قیمتی جواہرات نہایت خوبصورتی کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ اس کے صحن کے بنگلے میں جو ساحل جمنا پر واقع تھا دو حجرے تھے اور وہ نہایت درجہ نقش و نگار سے آراستہ تھے۔ یہ عمارت تین منزلہ تھی اور اس پر سونے کا کام کیا ہوا تھا۔
ڈاکٹر رحما بتاتی ہیں کہ وہ عین جوانی کے عالم میں ہی تصوف کی طرف مائل ہو گئی تھیں لیکن جلنے کے واقعے کے بعد ان کی زندگی مزید زاہدانہ ہو گئی تھی۔

لیکن اس سے قبل محبوب الرحمان نے لکھا ہے کہ پہلے ان کی بود و باش کا طریقہ بہت شاہانہ تھا۔ ڈاکٹر برنیر کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اس کی سواری بڑی شان و شوکت سے نکلتی تھی۔ وہ اکثر جوڈول پر نکلا کرتی تھیں، جو تخت رواں کے مشابہ ہوتا تھا اور اس کو کہار اٹھاتے تھے۔ اس کے ہر طرف روغن کاری کا کام بنا ہوتا تھا۔ اور اس پر ریشمی اور دلکش گھٹا ٹوپ پڑے ہوتے تھے اور ان میں زری کی جھالریں اور خوبصورت پھندنے ٹنگے ہوتے تھے جن کی وجہ سے ان کی زینت دگنا بڑھ جاتی تھی۔

بعض اوقات جہاں آرا بیگم آیک بلند اور خوبصورت ہاتھی پر سوار ہو کر نکلتی تھی۔ لیکن پردے کی سخت پابند تھی۔ وہ اکثر تفریح طبع کے لیے بڑی شان و شوکت سے سیر باغ کو جاتی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے شاہجہاں کے ساتھ متعدد بار دکن، پنجاب، کشمیر اور کابل کی سیر کی۔ لیکن ہر حالت اور ہر موقعے پر اس نے پردے کا پورے طور پر خیال رکھا۔ اوریہ کچھ اسی پر موقوف نہیں بلکہ خاندان مغلیہ کی تمام بیگمات حددرجہ پردہ نشین ہوتی تھیں۔

سیاح و مورخ برنیئر نے لکھا ہے کہ یہ امر محال ہے کہ کوئی ان بیگمات کے نزدیک جا سکے اور یہ تقریبا ناممکن ہے کہ وہ آدم زاد کو نظر آ سکیں سوائے اس سوار کے جو اتفاق سے ان بیگمات کی سواری کے نزدیک جا نکلے کیونکہ وہ شخص کتنا ہی ذی رتبہ کیوں نہ ہو خواجہ سراؤں خواصوں کے ہاتھوں سے پٹے بغیر نہیں رہ سکتا۔
ان کی علم دوستی، صوفیوں کے ساتھ ان کی عقیدت، ان کی فیاضی، دربار میں ان کی حکمت عملی اور باغ و تعمیرات سے لگاؤ ان کی متنوع شخصیت کا غماز ہے۔

جہاں آرا نے دو تصانیف چھوڑی ہیں اور یہ دونوں فارسی زبان میں ہے۔ انھوں نے 12ویں 13ویں صدی کے صوفی حضرت معین الدین چشتی کے متعلق تصنیف مونس الارواح لکھی ہے۔

انھیں صوفیا اور اولیا کے ملفوظات سے گہرا شغف تھا۔ وہ اپنے ابتدائی دنوں میں ہی ان سے فیضیاب ہو رہی تھیں۔ وہ شروع میں دارا اور بعد میں اپنے والد سے اس کے متعلق مباحثہ کرتی تھیں۔

وہ ذکر کرتی ہیں کہ ایک بار وہ دارا کے ساتھ ملکۂ ہندوستان نور جہاں کو کتاب واپس کرنے کے بہانے سے ملنے گئیں تو انھیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ نور جہاں نے انھیں جو کتابیں پڑھنے کے لیے دی تھیں انھیں ان کا نام یاد تھا۔

نور جہاں نے پوچھا کہ انھیں فیضی کتاب پسند آئی یا ہارون رشید کے قصے۔ جہاں آرا نے جواب دیا ہارون رشید کے قصے۔ نورجہاں نے کہا کہ وہ عمر کے ساتھ شاعری سے لطف اندوز ہونے لگیں گی۔

جہاں آرا کی تعلیم گھر میں ہی ہوئی تھی اور ان کی والدہ کی ساتھی ستی النسا بیگم جنھیں صدرالنسا بھی کہا جاتا تھا نے ان کی تعلیم و تربیت کی تھی جو ایک تعلیم یافتہ خانوادے سے آتی تھیں اور ان کے بھائی طالب آملی جہانگیر کے زمانے میں ملک الشعرا کے خطاب سے نوازے گئے تھے۔

جب جہاں ارا کچھ دنوں کے لیے دکن میں تھیں تو انھیں ایک اور استانی پڑھانے آتی تھیں۔
ان کی دوسری کتاب 16 ویں 17 ویں صدی کے کشمیر کے صوفی ملا شاہ بدخشی کے متعلق رسالہ صاحبیہ ہے۔

ڈاکٹر رحما بتاتی ہیں کہ جہاں آرا سے ملا شاہ بدخشی اس قدر متاثر تھے کہ وہ کہتے تھے کہ اگر جہاں آرا خاتون نہیں ہوتیں تو وہ انھیں اپنا خلیفہ نامزد کر دیتے۔

جہاں آرا کو اس بات کا فخر تھا کہ وہ پہلی مغل خاتون تھیں جنھوں نے باضابطہ مریدی اختیار کی تھی اور اپنے پیر کے مطابق زندگی گزار رہی تھیں۔

جہاں آرا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے پورے شاہجہان آباد یعنی دہلی کا نقشہ اپنی نگرانی میں بنوایا تھا۔ اس پر بعض مورخین کو اعتراض ہے لیکن چاندنی چوک کے بارے میں کسی کو اعتراض نہیں۔ یہ بازار ان کے حسن ذوق اور شہر کی ضرورتوں کی پہچان کا علمبرادار ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے کئی مساجد تعمیر کرائی جبکہ اجمیر میں حضرت معین الدین چشتی کے آستانے پر ایک بارہ دری تعمیر کروائی۔

ڈاکٹر رحما بتاتی ہیں کہ اس کا ادارک انھیں اس آستانے کے دورے پر ہوا تھا جب انھیں

حال آیا تھا اور اسی وقت انھوں نے خدمت کے جذبے سے اس بارہ دری کی تعمیر کا عہد کیا تھا۔ انھوں نے بہت سے باغات کی بھی تعمیر کروائی۔

آگرے کی جامع مسجد کے بارے میں ڈاکٹر رحما کہتی ہیں کہ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں عبادت کے لیے ایک زنان خانہ ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ صدر دروازے پر فارسی میں ایک کتبہ ہے جس میں کسی مغل بادشاہ کی طرح جہاں آرا کی، ان کی روحانیت اور ان کی پاکیزگی کی تعریف کی گئی ہے۔ ایک قسم کی قصیدہ سرائی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جہاں آرا پہلی مغل شاہزادی ہیں جنھوں نے خواتین کے لیے پبلک سپیس تیار کرایا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے دہلی سے ملحق جمنا پار صاحب آباد میں بیگم کا باغ بنوایا تھا وہ اپنی مثال آپ تھا۔

اس میں خواتین کے لیے جگہ مخصوص تھی بلکہ دن بھی مخصوص تھے تاکہ وہ آزادی کے ساتھ باغ کی سیر کر سکیں اور وہاں کے پرفضا ماحول سے لطف اندوز ہو سکیں۔
ڈاکٹر رحما بتاتی ہیں کہ مغل دور میں خواتین اپنی ساری خوبیوں کے باوجود تاریخ کے صفحات سے غائب ہیں اور ان پر اکبر کے زمانے سے زیادہ سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے نام بھی ظاہر نہیں کیے جاتے۔

اس کا احساس شاید جہاں آرا کو بھی تھا۔ چنانچہ جب وہ اپنی پردادی یعنی جہانگیر کی والدہ اور اکبر کی اہلیہ کا ذکر کرتی ہیں تو کہتی ہیں کہ وہ ہندو خاندان سے آتی ہیں۔

ان کا اصل نام کیا ہے پتہ نہیں لیکن ان کے القاب سے ہم انھیں جانتے ہیں اور پھر وہ یہ کہتی ہیں کہ وہ حرم کی سب سے معزز خاتون ہیں۔

چنانچہ ہم تاریخ میں بيگم کی سرائے، بیگم کا باغ، بیگم کا محل، بیگم کا حمام اس طرح کے نام دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر رحما نے مزید کہا کہ اجمیر میں بيگم کا دالان بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ جہاں جہاں بادشاہ اپنی چھاپ چھوڑ رہے تھے وہیں جہاں آرا بھی اپنی چھاپ چھوڑ رہی تھیں، چاہے وہ اجمیر ہو، آگرہ ہو کہ دلی ہو۔

ڈاکٹر ایم وسیم راجہ نے بتایا کہ وہ کشمیر کے صوفی بزرگ ملا بدخشی کی بیعت میں تھیں اور چشتیہ کے ساتھ ساتھ قادریہ سلسلہ کو بھی مانتی تھیں۔ ایک زمانے میں وہ چاہتی تھیں کہ ان کے اہل خانہ قادریہ سلسلے سے تعلق پیدا کریں۔
جہاں آرا کو سیاست کی سمجھ اسی دوران ہو گئی تھی جب وہ محل میں نور جہاں کو دیکھتی تھیں۔ وہ ان سے بہت متاثر تھیں۔

چنانچہ وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح نورجہاں خط و کتابت کے درمیان بیٹھی تھیں تو انھوں نے پوچھا کہ کیا آپ یہ سب پڑھیں گی؟ یہ تو بہت سارے ہیں۔ نورجہاں نے جواب دیا۔ ہم اتنے روز پڑھتے ہیں۔ نہیں تو ہمیں کیونکہ معلوم ہوگا کہ سلطنت میں کیا ہو رہا ہے۔ ظل الہی چاہتے ہیں کہ میں ہر چیز کو احتیاط سے پڑھوں اور اگر کچھ غلط ہو تو انھیں آگاہ کروں۔

دارا اور ہم شوق میں ذرا اور آگے جھکے۔ دارا نے پوچھا کہ غلط کیا ہو سکتا ہے۔ تو انھوں نے میری طرف دیکھ کر کہا تمہارے لیے یہ جاننے کا وقت آ گيا ہے کہ سلطنت کے امور کیسے چلائے جاتے ہیں۔

انھوں نے ایک رول اٹھایا اور کھولا جس میں بنگال کے گورنر کی رپورٹ تھی۔ اس نے لکھا تھا کہ پرگنوں میں قحط کی وجہ سے کسانوں سے محصول نہیں وصول کیا جا سکا ہے۔ ہم حیران تھے کہ اس میں غلط کیا ہے۔

انھوں نے ایک دوسرا رول اٹھایا اور کہا کہ یہ رپورٹ بنگال میں ہمارے جاسوس کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گورنر نے کسانوں سے ٹیکس وصول کیا ہے اور وہ قحط کا بہانہ بنا کر محصول اپنے پاس رکھ لینا چاہتا ہے۔

اس سے قبل جہاں آرا بتاتی ہیں کہ کس طرح نور جہاں کے پاس شاہی مہر ہوتی تھی اور جس کاغذ پر وہ اسے لگا دیں وہ بادشاہ کا فرمان ہو جاتا تھا
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب جہاں آرا کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو ان کی حیثیت اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ انھیں شاہی مہر بھی دی گئی تھی۔

بادشاہ نامہ کے حوالے سے ضیاءالدین احمد نے لکھا ہے کہ سنہ 1631-32 میں جب یمین الدولہ آصف خان،محمد عادل خاد کی بیداری کے لیے بالا گھاٹ کی مہم پر گئے توانھوں نے اپنی روانگی سے قبل شاہی مہر بادشاہ کے حضور پیش کی اور جب تک وزیر اعظم نہیں آئے وہ جہاں آرا کے پاس تھی اور وہی شاہی فرامین پر مہر ثبت کرتی رہیں۔

انھوں نے نور جہاں کے بعد اپنی والدہ کو بھی یہ کام کرتے دیکھا تھا لیکن 17-18 سال ک عمر میں اتنی اہم ذمہ داری کسی وزیر اعظم کے عہدے سے کم نہیں۔

ہر چند کہ وہ شہزادہ دارا کی حمایت کر رہی تھیں تاہم اورنگزیب کے نزدیک ان کی قدرومنزلت کم نہیں ہوئی جو ان کے اخلاق اور ہوش مندی کے شواہد ہیں۔

البتہ ان کی بہن روشن آرا ان سے چڑھی رہتی تھیں اور انھوں نے ان کے خلاف اورنگزیب کے بہت کان بھرے لیکن جب والد شاہجہاں کا انتقال ہوا تو انھوں نے جہاں آرا کو اپنے پاس بلا لیا اور انھیں پھر سے پادشاہ بیگم کا خطاب و منصب عطا کیا جس پر روشن آرا مزید چڑھ گئیں تاہم سنہ 1681 میں ان کی موت تک یہ منصب ان کے ہی پاس رہا۔
جب وہ بیمار پڑیں اور بستر مرگ پر تھیں تو انھوں نے کہا کہ ان کی قبر صوفی بزرگ حضرت نظام الدین اولیا کے مزار کے قریب ہو۔ اور اپنے مزار کے لیے انھوں نے جو شعر کہا وہ ان کا لوح مزار ہے اور وہ اس طرح ہے

بغیر سبزہ نہ پو شد کسے مزار مرا

کہ قبر پوش غریباں ہمیں گیاہ و بس است

یعنی میرے مزار کو سبزے کے علاوہ کسی چیز نہ ڈھکو کیونکہ غریبوں کی مزار کے لیے یہی گھاس کافی ہے اور اس طرح مغل سلطنت کی امیر ترین شہزادی جو خود کو فقیرہ کہتی تھی بغیر قبرپوش کے دنیا سے رخصت ہوئی۔

Tags : general knowledge
آج کی زیادہ پڑھی گئی پوسٹیں

There is neither intellect nor form

Cooked dates

A sign of puberty

The sailor saved one brother and let the other drown - why?

Favorite fruit became the cause of death. What is that fruit?

What happened when a non-Muslim saw the Holy Prophet in a dream?

Grandmother of thugs

A woman blames her husband