img not found
حسد کا عبرتناک انجام

کہا جاتا ہے کہ حسد کرنے والا شخص نہ دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوتا ہے اور نہ ہی خود کو کامیاب ہوتا ہے۔ آج حسد والوں کے بارے میں سبق آموز واقعہ ہے ایک نیک شخص کسی بادشاہ کے پاس نصیحت کرنے کے لئے بیٹھا کرتا تھا۔ اوروہ اس سے کہا کرتااچھے لوگوں کے ساتھ ان کی اچھائی کی وجہ سے اچھا سلوک کرو کیونکہ برے لوگوں کے لئے ان کی برائی ہی کافی ہے۔

 ایک جاہل درباری کو اس نیک شخص کی (بادشاہ سے) اس قربت پربہت حسد تھا۔ تو اس نے اس کے قتل کی سازش تیار کی اور بادشاہ سے کہا یہ شخص آپ کوبدبودار سمجھتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ کل اس کو اپنے زیادہ قریب کیجئے گا۔ جب یہ آپ کے قریب ہوگا قریب ہوگا تو وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لے گا تا کہ آپ کی بدبو سے بچ سکے۔ بادشاہ نے اس سے کہاتم جاؤ میں خود اسے دیکھ لوں گا۔ یہ سازشی وہاں سے نکلا اور اس نیک شخص کواگلے دن اپنے گھر دعوت پر بلا کر لہسن کھلا دیا، وہ نیک آدمی وہاں سے نکل کر بادشاہ کے پاس آیا اور حسبِ عادت بادشاہ سے کہا اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ برے کوعنقریب اس کی برائی ہی کافی ہو گی۔ توبادشاہ نے اس سے کہا :”میرے قریب آؤ۔ وہ قریب آیا تو اس نے اس خوف سے اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لیا کہیں بادشاہ لہسن کی بو نہ سونگھ لے، تو بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا کہ فلا ں آدمی سچ کہتا تھا۔ اس بادشاہ کی عادت تھی کہ وہ کسی کے لئے اپنے ہاتھ سے صرف انعا م دینے کاہی فرمان لکھا کرتا تھا، لیکن اب کی بار اس نے اپنے ایک گورنر کو اپنے ہاتھ سے لکھا کہ جب میرا خط لانے والایہ شخص تمہارے پاس آئے تو اسے قتل کر دینا اور اس کی کھال میں بھوسہ بھر کر میرے پاس بھیج دینا۔ اس نیک شخص نے وہ خط لیا اور دربار سے نکلا تو وہی سازشی شخص اسے ملا، اس نے پوچھا یہ خط کیسا ہے؟ نیک شخص نے جواب دیا۔

”شائد بادشاہ نے مجھے انعام لکھ کر دیا ہے۔” سازشی شخص نے کہا: ”یہ مجھے ہبہ کر دو۔” تو اس نیک شخص نے

بخوشی کہا: ”تم لے لو۔” پھرجب وہ شخص خط لے کر عامل کے پاس پہنچا تو اس عامل نے اس سے کہا :”تمہارے خط میں لکھا ہے کہ میں تمہیں قتل کر دوں اور تمہاری کھال میں بھوسہ بھر کر بادشاہ کو بھیج دوں۔” اس نے کہا :”یہ خط میرے لئے نہیں ہے میرے معاملہ میں اللہ عزوجل سے ڈرو تا کہ میں بادشاہ سے رابطہ کر سکوں۔” تو عامل نے کہا: ”بادشاہ کا خط آنے کے بعد اس سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔” لہٰذا عامل نے اسے قتل کر کے اور اس کی کھال بھوسے سے بھر کر بادشاہ کو بھیج دی، پھر وہی نیک شخص حسبِ عادت بادشاہ کے پاس آیا اوراپنی بات دہرائی:” اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ ” تو بادشاہ نے حیرت زدہ ہو کر اس سے پوچھا: ”تم نے خط کا کیا کیا؟” اس نے جواب دیا : ”مجھے فلاں شخص ملا تھا ،اس نے مجھ سے وہ خط مانگا تو میں نے اسے بخوشی اسے دے دیا۔” تو بادشاہ نے کہا :”اس نے تو مجھے بتا یا تھا کہ تم کہتے ہو کہ میرے جسم سے بُو آتی ہے۔” تو اس نیک شخص نے جواب دیا کہ ” خدا جانتا ہے میں نے تو ایسا نہیں کہا۔” پھر بادشاہ نے پوچھا :”تم نے اپنی ناک پر ہاتھ کیوں رکھا تھا؟” اس نے بتایا :”اسی شخص نے مجھے لہسن کھلا دیا تھا اور میں نے پسند نہ کیا کہ آپ اس کی بو سونگھیں۔” بادشاہ نے کہا: ”تم سچے ہو اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ، برے آدمی کی برائی اسے پہنچ چکی ہے۔” دوستوں !اللہ عزوجل ہم پر رحم فرمائے حسد کی برائی میں غور کرو۔ دوستو کچھ قصے خیالی ہوتے ہیں لیکن اس کے پیچھے ایک بہت بڑا سبق پڑھ ہوتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آج کی تحریر ضرور اپ کو پسند آئی ہوں گے۔ مزید اچھی تحریروں کے لئے ہمارے پیج ،،کو ضرور لائک اور شیئر کرو

Tags : sachay waqiat
آج کی زیادہ پڑھی گئی پوسٹیں

Do we sincerely want the implementation of Islamic laws in our society?

An old man was walking along the canal

Family and blood identification

The sailor saved one brother and let the other drown - why?

Baher wali

If you feel uncomfortable in your leg, then you must read this.

What is the ruling on unwanted hair?

One man had a son, who came home late